سنتِ الٰہی کے تحت جب کسی قوم کا کوئی فرد یا مخصوص گروہ کھلی جارحیت (aggression) اور ظلم کا ارتکاب کرتا ہے، اور باقی معاشرہ اس کا ہاتھ روکنے کے بجائے خاموش تماشائی بن جائے یا دلی طور پر اس پر خوش ہو، تو اخلاقی اور خدائی قانون کی نظر میں وہ پوری قوم اس جرم میں برابر کی شریک قرار پاتی ہے۔ موجودہ دور کے مسلمانوں کا ایک بڑا فکری المیہ یہی گروہی تعصب (groupism) اور اخلاقی تضاد ہے۔ جب ان کے اپنے طبقے کا کوئی گروہ تشدد اور لاقانونیت برپا کرتا ہے تو عام مسلمان اسے ایک کارنامہ سمجھ کر اس پر بغلیں بجاتے ہیں، لیکن جب اس کا ناگزیر ردعمل (retaliation) سامنے آتا ہے تو وہ مظلومیت کا واویلا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس بات سے سراسر غفلت پر مبنی ہے کہ کائنات کا نظام معروضی حقائق (objective realities) کے تحت چلتا ہے، نہ کہ جذباتی مفادات کے تحت۔ غیروں پر ظلم پر خوش ہونا اور خود پر آنے والے نتائج پر فریاد کرنا خدا کے انصاف کے بالکل برعکس ہے۔
انسان کی ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ خواہش پرستانہ سوچ (wishful thinking) کا اسیر رہتا ہے۔ وہ اپنے فیصلوں اور فکری رویوں کے ذریعے دوسروں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے اور اسے اپنی فتح سمجھتا ہے، لیکن جب وہی صورتِ حال تاریخ کے پلٹنے پر اس کے اپنے سامنے آتی ہے تو وہ شدید مایوسی اور فرسٹریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے تاریخی پس منظر میں بھی مسلم قیادت اور عوام نے جس جذباتی انداز میں اکثریتی آبادی کے عقائد اور زمینی احساسات کو نظرانداز کر کے سیاسی فتح کا جشن منایا، اس نے خود ان کے لیے ایسے فکری اور سماجی اثرات پیدا کیے جن کا مداوا نہ ہو سکا۔ حقیقت پسندی کا تقاضا یہ تھا کہ اپنے رویوں کا سنجیدہ جائزہ لیا جاتا، مگر معروضی حقیقت کو تسلیم نہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ قوم تاریخ کے سبق سے محروم رہی۔
قرآنی قصص میں قومِ ثمود کا واقعہ دراصل اسی انسانی نفسیات کو بے نقاب کرتا ہے۔ ثمود کا بنیادی مسئلہ محض ایک جانور کا قتل نہیں تھا، بلکہ ان کا اصل بگاڑ وسائل پر تفاخر (material pride) اور اپنی مادی صلاحیتوں اور انجینئرنگ پر بے جا غرور تھا۔ وہ مادی خوشحالی اور دنیاوی غلبے میں اس حد تک سرکش ہو چکے تھے کہ پیغمبر کی طرف سے دی جانے والی آخرت کی یاد دہانی اور خدائی انذار (divine warning) انہیں اپنے مادی مفادات میں ایک ناگوار خلل محسوس ہوتی تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اسی مادی گھمنڈ کی آزمائش کے لیے ایک ناقہ (اونٹنی) کو ذریعہ بنایا اور پانی کی باری مقرر کر کے ان پر وسائل میں شراکت (resource sharing) کا اصول نافذ کر دیا۔
انسان فطرتاً اپنے اقتدار، مادی وسائل اور مراعات میں کسی دوسرے کو حصہ دار یا ہم پلہ (counterpart) ماننا پسند نہیں کرتا۔ قومِ ثمود کے لیے بھی یہ بات ناقابلِ برداشت تھی کہ ایک دن مخصوص طور پر اس اونٹنی کے لیے ہو اور دوسرا دن ان کے لیے۔ اس شراکت نے ان کی انا (ego) کو مجروح کیا اور ان کے اندر چھپی ہوئی سرکشی کھل کر سامنے آ گئی۔ بالآخر انہوں نے وسائل کی اس تقسیم کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اونٹنی کو قتل کر دیا اور خود اپنے لیے خدائی گرفت (divine retribution) کا راستہ ہموار کر لیا۔ پس ناقہ تو محض ایک خارجی بہانہ تھی، اصل مجرم ان کی وہ ذہنیت تھی جو وسائل پر اپنی اجارہ داری چاہتی تھی اور خدا کے بندوں کے ساتھ شراکت کو رد کرتی تھی۔
یہی بیماری دورِ حاضر میں بھی انفرادی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر تمام تر فساد کی جڑ بنی ہوئی ہے۔ خواہ وہ بین الاقوامی سطح پر خطوں پر تسلط کی جنگیں ہوں، قومی سطح پر مختلف ریاستوں کے مابین پانی کے وسائل پر تنازعات ہوں، یا مراعات اور مخصوص حقوق کے حصول کے لیے گروہی سیاست اور دھرنے ہوں—ہر جگہ انسان وسائل پر تنہا قابض ہونے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ مادی وسائل کو خدا کی امانت سمجھ کر ان کا منصفانہ اور تعمیری استعمال (constructive utilization) کیا جائے اور دوسروں کے حقوق کو کشادہ دلی سے تسلیم کیا جائے۔ جب کوئی گروہ یا قوم وسائل کی شراکت داری سے انکار کر کے طاقت اور تکبر کا راستہ چنتی ہے، تو وہ اسی انجام کی طرف بڑھتی ہے جو ثمود جیسی قوموں کا مقدر بنا۔
(a) When a prophet arises in a community, that community is not necessarily atheistic or irreligious. It is, in fact, a religious community in the fullest sense, but, the religion of its members is the religion of their forefathers, and what the prophet presents is God’s religion. Those who consider the ways of their forefathers sacrosanct and stick to them, cannot understand the importance of other ways, even if those are presented by the prophet. To Salih’s community (i.e. the Thamud), deviation from their forefathers’ ways was so intolerable that they called Salih a madman. This struggle went on for a long time. Ultimately, they demanded that he show them a miracle. A miracle did appear, as commanded by God Almighty; it was both a miracle and the instrument of divine justice. It appeared in the form of a she-camel which had come into existence in other than the normal manner, i.e. in a miraculous way. Salih said that this was a she-camel of God. It would wander in their fields and gardens freely, and the water from the pond would be reserved for it exclusively on one day. The community tolerated the she-camel for a few days and then an arrogant man killed it. Soon thereafter the entire community was wiped out by a severe earthquake. The crime of killing the she-camel was committed by a single person of the community, but the Quran uses the plural saying, ‘They hamstrung her.’ The reason for this is that at the time of killing, the people of the community did not prevent the person concerned from doing the deed, nor did they condemn him afterwards. Everyone spoke in his support and opposed Salih. While the killer had personally committed the crime, the rest of the people were his accomplices in that crime in their hearts and with their tongues. Therefore, in the eyes of God, all of them stood guilty.